8 اشعار

جو مٹی کے کھلونے بیچتا تھا

Jo mitti ke khilaune bechta tha

جو مٹی کے کھلونے بیچتا تھا

«جو مٹی کے کھلونے بیچتا تھا» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

جو مٹی کے کھلونے بیچتا تھاخدائی کے وہ نقشے بیچتا تھا

جو اک آواز دھیمی آ رہی تھیکوئی مجبور فاقے بیچتا تھا

کسی کی جان کی قیمت تھی کوڑیکوئی لاکھوں کے لمحے بیچتا تھا

مرا ہمزاد تاروں سے پرے تھامیں خود دنیا میں دُکھڑے بیچتا تھا

مری فریاد سن کر اک مسیحامجھے سُکھ کے طریقے بیچتا تھا

وہ پُرکھوں کی وراثت اونے پونےنشے کی بھینٹ چڑھ کے بیچتا تھا

خریدے جس نے اس کو کیا خبر تھی ؟کوئی خوابوں کے پرزے بیچتا تھا

اسے لوگوں کو دھوکے بیچنے تھےجِسے جتنے کے بِکتے، بیچتا تھا

— راشد ڈوگر