10 اشعار

بابا اور برفی

Baba Aur Barfi

بابا اور برفی

«بابا اور برفی» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

جب بھی برفی ملے ہے کھانے کوذائقوں کے سفر پہ جاؤں نکل

میں ہوں چھوٹا سا، اور بھائی مرادونوں بیٹھے ہیں ایک قصبے میں

ایک بازار ہے یہ قصبے کاجس میں دونوں طرف ہیں دوکانیں

جن میں دنیا جہاں کی چیزیں ہیںمیرے ہاتھوں میں خاکی کاغذ ہے

جس کے اندر ہے برفی کھوئے کیمیرے بابا نے لے کے دی تھی جو

جس کی خوشبو ابھی ہے نتھنوں میںجس کی لذت ابھی زباں پر ہے

ایک نغمہ فضا میں گونج رہاگانے والے ہیں جس کے مہدی حسن

بول جس کے مری سماعت میںگاہے گاہے سنائی دیتے ہیں

(نعمتوں کو جو بانٹتا تھا خدا ۔۔۔۔ )میرے بابا، وہ نغمہ اور برفی

میرے بیتے دنوں کا قصہ ہیںمیرے جیتے دنوں کا قصہ ہیں

— راشد ڈوگر