5 اشعار

چراغ تلے اندھیرا :

Chiragh Tale Andhera:

اپنی آنکھیں نہ دیکھیں چہرے کو‏سب چراغوں تلے اندھیرا ہے

‏سارے سِینوں میں رات بستی ہے‏جو میسّر ہو کوئی آئینہ

‏جو چراغوں تلے چراغ جلیں‏اور سِینے سے اک نظر گُزرے

‏کسی روشن ضمیر انساں کی‏تو نگاہوں کو خود کے درشن ہوں

‏تو چراغوں کے پیندے روشن ہوں‏اور تاباں سبھی کے باطن ہوں

— راشد ڈوگر