5 اشعار

اک آہ کی آری سے ہو گَرْدُوں کا جگر چاک

Ek aah ki aari se ho gardoon ka jigar chaak

اک آہ کی آری سے ہو گَرْدُوں کا جگر چاک

«اک آہ کی آری سے ہو گَرْدُوں کا جگر چاک» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

اک آہ کی آری سے ہو گَرْدُوں کا جگر چاکسو راز ہوں، کردیتی ہے مستی کی نظر، چاک

برسوں کی ریاضت سے ملِے جُبّہ و دستاربس عشق کی آمد تھی کہ تھا علم و ہنر چاک

انسان کی فطرت میں ہے تخریب کا پہلوہو سکتے تو کر دیتا ابھی شمس و قمر چاک

صحرا ہوں کہ گلشن ہوں، وہ باطن میں ہیں یکساںملتی ہے وہی شے ، جو کریں ریگ و گہر چاک

کمہار کے ہاتھوں سے اخذ کر کے محبتکوزہ تھا کہ رقصاں رہا قدموں تلے دھر چاک

— راشد ڈوگر