6 اشعار

غم کا قصہ نہ کبھی ہم سے سنایا جاتا

Gham ka qissa na kabhi hum se sunaya jaata

غم کا قصہ نہ کبھی ہم سے سنایا جاتا

«غم کا قصہ نہ کبھی ہم سے سنایا جاتا» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

غم کا قصہ نہ کبھی ہم سے سنایا جاتاان کے پہلو میں اگر یوں نہ بٹھایا جاتا

کوئی باطل ہو تو پلکوں پہ اٹھا لو اس کوکہ یہاں سچ کو ہے سولی پہ چڑھایا جاتا

یاں سے جا کر بھی نہیں ہم کہیں جانے والےجان لے کر بھی نہیں عشق مٹایا جاتا

میرے دل کو ہے کسی یاد نے گھیرا ایسےجیسے ہالے سے کوئی چاند سجایا جاتا

مہک اس کی ہے مرے خُون میں دوڑے جاتیلمس اس کا ہے مرے من میں مِلایا جاتا

میری سوچیں ہیں مرے جسم پہ طاری رہتیںمیرے باطن میں کوئی گیت ہے گایا جاتا

— راشد ڈوگر