5 اشعار

یہ زندگی کے ماہ و سال، “حال” میں گزر گئے

Yeh zindagi ke mah-o-saal, “haal” mein guzar gaye

یہ زندگی کے ماہ و سال، “حال” میں گزر گئے

«یہ زندگی کے ماہ و سال، “حال” میں گزر گئے» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

یہ زندگی کے ماہ و سال، “حال” میں گزر گئےجو حال میں نہیں تھے وہ زوال میں گزر گئے

جو خار تھے وہ پُھول ہیں، جو خواب تھے وہ دُھول ہیںجلال میں گزر گئے جمال میں گزر گئے

نگاہ کی کجی تھی اور دماغ کا فتُور تھاجو دیکھنے میں پست تھے، کمال میں گزر گئے

جواب میرے پاس تھا، میں آپ لاجواب تھاستم کہ میرے سارے پل سوال میں گزر گئے

بچے کُھچے یہ شعر ہیں جو شاملِ کلام ہیںجو حاصلِ کلام تھے، خیال میں گزر گئے

— راشد ڈوگر