6 اشعار

گو پھول یہاں کم ہیں، مگر خار بہت ہیں

Go phool yahaan kam hain, magar khaar bahut hi hain

گو پھول یہاں کم ہیں، مگر خار بہت ہیں

«گو پھول یہاں کم ہیں، مگر خار بہت ہیں» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

گو پھول یہاں کم ہیں، مگر خار بہت ہیںرنگین لباسی کو یہ آزار بہت ہیں

میں اپنی جگہ چُپ ہوں کہ مکار نہیں ہوںوہ اپنے تئیں خوش ہیں کہ عیار بہت ہیں

عشاق بہت سادہ ہیں، تجار فریبینادان یہاں تھوڑے ہیں، ہشیار بہت ہیں

انکار نہیں ہے کہ ہمیں پیار نہیں ہےاقرار نہیں کرتے کہ خوددار بہت ہیں

امکان کی حد کیا ہے کوئی کہہ نہیں سکتاانسان کے مٹ جانے کے آثار بہت ہیں

اللہ کی رحمت ہے یہ چلتی ہوئی سانسیںورنہ تو حقیقت ہے کہ لاچار بہت ہیں

— راشد ڈوگر