27 اشعار

‏کسی بچھڑ جانے والے کے نام

Kisi Bichhad Jaane Waale Ke Naam

‏کسی بچھڑ جانے والے کے نام

«‏کسی بچھڑ جانے والے کے نام» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 58 سیکنڈ ہے۔

‏مجھے یاد ہے وہ ملاقات پہلی‏جو فرمائی تُو نے وہی بات پہلی

‏"نرے خام ہو اور پر تولتے ہو‏کہ ساحل سے موج و بھنور تولتے ہو

‏کتابوں میں چاہت کی بُو سونگھتے ہو‏کناروں پہ لعل و گہر ڈھونڈتے ہو

‏ابھی عشق کے تم نے قصے سُنے ہیں‏ابھی راہ سے پھُول پتّے چُنے ہیں

‏رموزِ وفا سے شناسا نہیں ہو‏تماشائی ہو پر تماشا نہیں ہو

‏چلے جاؤ واپس کہ عاشق نہیں تم‏تجسس سے پُر اور حیرت میں ہو گم

‏چلے آنا تب تم کو ٹھوکر لگی جب‏چلے آنا جب دل پہ دستک ہوئی تب “

‏چلا آیا میں جو ابھی بے سبب تھا‏یونہی منحصر گردشِ روز و شب تھا

‏اسی کشمکش میں گزرتے گئے دن‏کہ جیون کے گیہوں کترتے گئے دن

‏کسی دن اچانک کہیں جا گرا میں‏اٹھا تو کسی اور عالم میں تھا میں

‏وہاں اپنی سرحد سے باہر کھڑا تھا‏میں کون اور کیوں ہُوں، کھڑا سوچتا تھا

‏ جہاں تھم گیا تھا، زماں تھم گیا تھا‏کسی ایک نقطے پہ دل جم گیا تھا

‏زمین و زمان و زمن کس لئے ہیں؟‏یہ گہوارے ، سہرے ، کفن ، کس لئے ہیں؟

‏یہ سانسوں کے زہریلے پھن کس لئے ہیں؟‏جو مرنا ہے تو سب جتن کس لئے ہیں؟

‏نگاہیں ملا کر مجھے وہ بتا دے‏مجھے کیوں بنایا تھا سمجھا ذرا دے

‏وہ لمحات تھے سارے صدیوں پہ بھاری‏کہ ہستی تھی دانہ تو سوچیں تھی چکّی

‏میں اپنے ہی گرداب میں آ گِرا تھا‏جہاں کوئی کشتی نہ تھا کوئی تنکا

‏اسی جاں کنی میں کئی سال گزرے‏کئی ماضی گزرے کئی حال گزرے

‏اچانک ہی اک رات عالم جدا تھا‏کہ خود کو سپردِ خدا کردیا تھا

‏نگاہوں سے جیسے کہ دھند چھٹ گئی تھی‏ہر اک شے پہ اس کی حقیقت لکھی تھی

‏وہ دنیا نئی تھی زمانہ نیا تھا‏نیا تھا پرانا، پرانا نیا تھا

‏نئی چال سے تب روانہ ہوا میں‏اسی حال میں آکے تم سے ملا میں

‏اسی روز سے میرے ہمراز ٹھہرے‏کہ استاد ٹھہرے تو دم ساز ٹھہرے

‏تھا انگلی پکڑ پھر سے چلنا سکھایا‏نئے آسمانوں پہ اڑنا سکھایا

‏ہو اب تم کسی اور عالم کے باسی‏کسی طَور جاتی نہیں یہ اداسی

‏تصور میں لیکن ہو تم ساتھ میرے‏مرے دل کو رکھے تری یاد گھیرے

‏مرے پاس تیری نشانی یہی ہے‏کہانی نہیں یہ، کہانی یہی ہے

— راشد ڈوگر