5 اشعار

‏کسی کے چہرے پہ چاند چمکے، چراغ جلتی شہاب آنکھیں

Kisi ke chehre pe chaand chamke, charaagh jalti shahab aankhen

‏کسی کے چہرے پہ چاند چمکے، چراغ جلتی شہاب آنکھیں

«‏کسی کے چہرے پہ چاند چمکے، چراغ جلتی شہاب آنکھیں» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

‏کسی کے چہرے پہ چاند چمکے، چراغ جلتی شہاب آنکھیں‏کسی کے دیکھے ہیں یار میں نے گلاب ہونٹ اورشراب آنکھیں

‏سحاب جیسی لطیف زلفیں، ہلال کا ہیں گمان ابرو‏ہے خوب صورت شباب ان کا تو خواب جیسی جناب آنکھیں

‏وہ چال جیسے ہے چلتی ندیا، سکون جیسے ہو ٹھہرا پانی‏جمال جیسے کہ گلستاں ہو، جلال میں ہیں عتاب آنکھیں

‏وڈیر لہجہ ہے سندھ جیسا، دلیر شوکت ہے ستلجوں سی‏جو راوی جیسی رواں ہیں باتیں، چناب جیسی نواب آنکھیں

‏بہار جیسے جوان بازو، چنار جیسی اٹھان قامت‏ستار جیسی وہ خامشی ہے،کہانی کہتی کتاب آنکھیں

— راشد ڈوگر