غزل 14 اشعار

کیا ہو تسکین جو ہو تیری سکونت دل میں

Kya ho taskeen jo ho teri sukoonat dil mein

کیا ہو تسکین جو ہو تیری سکونت دل میںرہے آغوش میں یا پیار کی صورت دل میں

موت چاہوں تو کروں سوز محبت کا علاجکیا رہے گا نہ رہے گی جو حرارت دل میں

دل نشیں ہے جو مجھے طالب عزت ہوناچھپ کے بیٹھا ہے کوئی صاحب عزت دل میں

دل کو سب لوگ یہ کہتے ہیں خدا کا گھر ہےمیں سمجھتا ہوں کہ ہے تیری امانت دل میں

سن رہا ہوں وہ عیادت کے لئے آتے ہیںآج ہے پرسش اعمال کی ہیبت دل میں

توبہ توبہ میں سمجھتا تھا کہ دل ہے بیتابخود وہ بیتاب ہے جس کی ہے سکونت دل میں

دل میں رہنے کا تجھے حق تو ہے لیکن اے شوخکاش ہوتی ترے چہرے کی متانت دل میں

جانتے ہیں مری بے راہروی کے اسبابمانتے ہیں مجھے یاران طریقت دل میں

ٹھن گئی تھی ترے اخلاق کی بے جا تعریفاب نہ آتا تو یہ آئی تھی شرارت دل میں

ہے ابھی تک تو فقط شکوۂ دشمن اے دوستکہیں پیدا نہ ہو کچھ اور شکایت دل میں

چاہتا ہوں جسے بن جائے اگر وہ ساقیبڑھتی جائے ہوس کوثر و جنت دل میں

ذوق‌ دیدار بھی کیا چیز ہے اللہ اللہمیری آنکھوں میں بصارت ہے بصیرت دل میں

کاش من جملۂ آزار محبت نکلےکار فرما نظر آتی ہے جو قوت دل میں

ہیں ابھی تک تمہیں دنیا کے مزے یاد صفیؔعاشقی کرتے ہو رکھ کر یہ ملامت دل میں

— صفی اورنگ آبادی