غزل 11 اشعار

کچھ نہ پائی دل نے تسکیں اور کچھ پائی تو کیا

Kuch na paai dil ne taskeen aur kuch paai to kya

کچھ نہ پائی دل نے تسکیں اور کچھ پائی تو کیاایسی صورت سے تری صورت نظر آئی تو کیا

ایک دشمن کے کہے پر ناز وہ بھی اس قدراپنے مطلب کو کسی نے آپ کی گائی تو کیا

ہوش آنا تھا کہ وہ خاصے ستم گر بن گئےہائے ری قسمت کہ ان کو عقل بھی آئی تو کیا

او جفا پیشہ شگفتہ خاطری ہے اور شےیوں ہنسی آنے کو رونے میں ہنسی آئی تو کیا

آپ اپنے دل سے پوچھیں آپ ہی سوچیں ذرامیری آہوں میں اگر تاثیر بھی آئی تو کیا

میرے لاشے پر اگر تشریف بھی لائے تو ہیچبعد میرے ان کو میری یاد بھی آئی تو کیا

اپنی عادت سے وہ باز آ جائیں ممکن ہی نہیںکہنے سننے سے گھڑی بھر کو حیا آئی تو کیا

کچھ نہ کچھ اغیار نے پٹی پڑھائی ہے ضرورتم نے کھانے کو مرے سر کی قسم کھائی تو کیا

تھا جو کچھ تقدیر کا ہونا وہ ہو کر ہی رہاکرنے والوں نے جو کی بھی چارہ فرمائی تو کیا

بے وفاؤں میں تو کچھ گنتی نہیں تیری طرحہم کو کہتی ہے اگر مخلوق سودائی تو کیا

اے صفیؔ ترک تعلق کر کے اتراتے ہو کیوںعمر بھر میں یہ ہوئی ہے تم سے دانائی تو کیا

— صفی اورنگ آبادی