غزل 18 اشعار

دام خیال زلف بتاں سے چھڑا لیا

Daam-e khayal zulf-e butaan se chhura liya

دام خیال زلف بتاں سے چھڑا لیاکیا بال بال مجھ کو خدا نے بچا لیا

اب اس کو رحم آئے یہ قسمت کے ہاتھ ہےبن جائے بات حال تو ہم نے بنا لیا

شرما کے منہ چھپانے کا انداز دیکھناگویا کہ اس نے عیب ہمارا چھپا لیا

یا یہ کہ ہم نے ترک محبت کی ٹھان لییا یہ ہوا کہ آج کسی کو منا لیا

ہوتا ہوں ایک نالے پہ میں قتل ہائے ہائےآواز دے کے اپنی قضا کو بلا لیا

ظالم فریب دے کے نہ لے دل غریب کااک روز کام آئے گا تیرا دیا لیا

رشک رقیب ہو کہ غم دورئ حبیبجو وقت پر نصیب ہوا ہم نے کھا لیا

میں کیا کہوں کے جان رہی کس عذاب میںجب اس نے مجھ کو اپنی برابر بٹھا لیا

جھوٹا سہی ذلیل سہی کوئی کچھ کہےمیں نے تو آج ان کو گلے سے لگا لیا

پوچھی ہے دوست بن کے مرے دل کی آرزواس نے زبان دے کے مرا مدعا لیا

لے کوئی شان کی تو بس اتنا کیا کروجس سے کوئی بڑائی سنی آزما لیا

مہمان دوست کو جو کیا دوستوں کے ساتھدیکھا تھا جس کو دیدہ وروں کو دکھا لیا

اس کی بھی موت سہل ہو سکرات سے بچےجس نے ہماری نزع میں نام آپ کا لیا

بیٹھے تو بات کرنے نہ دی بزم غیر میںاٹھے تو اپنے ساتھ ہی مجھ کو اٹھا لیا

دل کا ہی ایک نام ہے شاید خیال بھیایسا اگر نہیں ہے تو دل اس نے کیا لیا

معشوق کو تو جلوہ نمائی ضرور ہےدیکھو عزیز مصر کے سو میں دکھا لیا

اس درجہ تو نے خستہ کیا اے غم فراقہم کو ہماری گور نے ہونٹوں سے کھا لیا

سمجھا صفیؔ کو آپ نے جو کچھ غلط ہے یہدنیا کا بد معاش زمانے کا چالیا

— صفی اورنگ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں