غزل 9 اشعار

ہائے اس بے خود شباب کا رنگ

Haye us be khud shabaab ka rang

ہائے اس بے خود شباب کا رنگلال انگارہ سا شراب کا رنگ

ہو گیا خون حسرت دیداردے دیا اشک نے شہاب کا رنگ

اس کی خوش بو گلاب کی خوش بورنگ اس شوخ کا گلاب کا رنگ

ستیاناس ہو گیا دل کاکیا کہوں اس جلے کباب کا رنگ

بجلیاں دشمنوں پہ گرتی ہیںدیکھ کر میرے اضطراب کا رنگ

وہ سر شام سیر کو نکلےپڑ گیا زرد آفتاب کا رنگ

اس کے رخ پر نکھر گئی سرخیاللہ اللہ اس حجاب کا رنگ

ماند ہے رات دن ترے آگےماہتاب اور آفتاب کا رنگ

اتنی شوخی صفیؔ کسی میں کہاںرنگ میں رنگ تو شراب کا رنگ

— صفی اورنگ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں