غزل 13 اشعار

وہ واقعات کسے یاد اک زمانہ ہوا

Woh waaqiaat kise yaad ek zamaana hua

وہ واقعات کسے یاد اک زمانہ ہواکسی نے کیا نہ کیا اور ہم پہ کیا نہ ہوا

مرا برا تو مرے حسب مدعا نہ ہوابھلا ہوا بھی تو کوئی مرا برا نہ ہوا

دکھاتے ہم دل پر داغ کی بہار اسےیہ منظر اور ذرا سا بھی خوش نما نہ ہوا

کسی کا درد محبت اگر تھا کم مایہتو ٹھہر ٹھہر کے پھر کیوں ذرا ذرا نہ ہوا

ترا ارادہ مبارک تجھے مگر اے دلیہ نقش پا اگر اس کا ہی نقش پا نہ ہوا

ستم کرے بھی تو سمجھوں کہ یہ ستم ہی نہیںخفا ہوا بھی تو جانوں کہ تو خفا نہ ہوا

کیا جب آنے کا اقرار آپ بھول گئےیہ ایک وعدہ تو شاید کبھی وفا نہ ہوا

زمانہ آپ کو عاشق نواز کہتا ہےیہ سچ بھی ہو تو کبھی ہم کو کچھ عطا نہ ہوا

وہ کیا کہیں گے جو اقبال ہی نہ ہو مجھ کووہ کیا کریں گے جو میں قابل خطا نہ ہوا

اگرچہ شیخ میں لاکھوں کرامتیں آئیںمگر یہ بندے کا بندہ رہا خدا نہ ہوا

رضائے دوست کے ہوتے ہیں اور کیا معنیکہ مجھ سے ان کا کبھی آج تک گلا نہ ہوا

وہ خود ملے تو بتا کیا جواب دوں اے دلیہ عذر لنگ ہے کوئی بھی رہنما نہ ہوا

صفیؔ نصیب برے ہوں تو کیا کرے کوئینہیں تو قیس بھی کچھ آدمی برا نہ ہوا

— صفی اورنگ آبادی