غزل 14 اشعار

خوب ہاتھوں ہاتھ بدلہ مل گیا بیداد کا

Khoob haathon haath badla mil gaya bedaad ka

خوب ہاتھوں ہاتھ بدلہ مل گیا بیداد کاآشیاں میرا جلا گھر جل گیا صیاد کا

یہ خلاصہ مختصر ہے عشق کی روداد کاشوق ہے ان کو ستانے کا ہمیں فریاد کا

ہر گرفتار قفس قیدی ہے بے میعاد کاچھوڑ بھی دیتا ہے جی چاہے اگر صیاد کا

واہ مجھ ایسے مقید کو لقب آرا کیامصلحت صیاد کی ہے یا کرم صیاد کا

اب کیا کرتا ہے ماتم بلبل ناشاد کادل لرزتا ہے تقیہ دیکھ کر صیاد کا

حشر اس دن دیکھنا ہر بانیٔ بیداد کاجب زمیں تانبے کی ہوگی آسماں فولاد کا

کیا مری فریاد کا ان پر اثر ہوتا نہیںجو انہیں معلوم ہو جاتا سبب فریاد کا

کہتے ہیں بے قاعدہ فریاد ہم سنتے نہیںپھر بتاتے بھی نہیں وہ قاعدہ فریاد کا

ایک خودبیں کو ہوا جس وقت خود بینی کا شوقبن گیا منڈان سارے عالم ایجاد کا

کچھ مری فریاد بھی ان پر اثر کرتی نہیںاور کچھ وہ بھی اثر لیتے نہیں فریاد کا

عاشقی سر پھوڑ لینے کے سوا کچھ بھی نہیںہم تو یہ سمجھے ہیں سن کر ماجرا فرہاد کا

دام کا کیا ذکر ہے میں بندۂ بے دام ہوںشامت آئی پھنس گیا منہ دیکھ کر صیاد کا

انتظام آب و دانہ ہے نہ تنظیم قفسمجھ سے پوچھو بولتا شہکار ہوں صیاد کا

نالہ و فریاد بہر عیش ہو جب اے صفیؔپھر کہاں تاثیر نالے کی اثر فریاد کا

— صفی اورنگ آبادی