غزل 13 اشعار

ترا بے مدعا مانگے دعا کیا

Tera be muddaa maange dua kya

ترا بے مدعا مانگے دعا کیامرض ہے تندرستی میں دوا کیا

کہیں کیا کیا کیا ہے ہم نے کیا کیاتجھے اے بے وفا قدر وفا کیا

تبسم ہو جواب مدعا کیاکہا کیا آپ نے میں نے سنا کیا

کہو آخر ذرا میں بھی تو سن لوںمری نسبت سنا ہے تم نے کیا کیا

تمہاری مہربانی ہے تو سب ہےمرا ارمان میرا مدعا کیا

نہ دیکھیں وہ تو اپنا گریہ بے سودنہ پوچھیں وہ تو اپنا مدعا کیا

چلا تو بھی جو اے دل لینے والےہمارے پاس پھر باقی رہا کیا

ادائیں تم کو بخشیں ہم کو آنکھیںکرے گا اور بندوں سے خدا کیا

جو مجھ کو آپ ہی در سے اٹھا دیںکوئی رکھے کسی کا آسرا کیا

سمجھتے ہو جو اپنے آپ کو تماسے سمجھے گا کوئی دوسرا کیا

کھلاتے ہو قسم ضبط فغاں پرذرا سوچو مرض کیا ہے دوا کیا

مرے گھر کو تم اپنا گھر نہ سمجھوتو ایسی میہمانی کا مزا کیا

صفیؔ خود بینی ٹھہرے جن کا شیوہنظر آئے گا ان کو دوسرا کیا

— صفی اورنگ آبادی