8 اشعار

عدل کی دھجیاں جب بھی اُڑائی جاتی ہیں

Adl Ki Dhajjiyan Jab Bhi Udayi Jati Hain

عدل کی دھجیاں جب بھی اُڑائی جاتی ہیں

«عدل کی دھجیاں جب بھی اُڑائی جاتی ہیں» سجاد رضا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

عدل کی دھجیاں جب بھی اُڑائی جاتی ہیںصدائیں عرش پہ دینے دُہائی جاتی ہیں

رُکے گا کون کڑے وقت میں سرِ میداںوفائیں جان کے بدلے نبھائی جاتی ہیں

اُسی کی خلق کو دھوکے سے لوٹنے کے لئےاُسی کے نام کی قسمیں اُٹھائی جاتی ھیں

اُس ایک حد پہ نہ سنسار یہ چلا جائےجہاں عذاب کی خبریں سنائی جاتی ہیں

ترقی کرکے بھی انسانیت گری ہی رہیجو زندہ بیٹیاں اب بھی جلائی جاتی ہیں

رفاقتیں بھی کئی آگے جاں سے ہوتی ہیںعتاب سہتے ھوئے بھی نبھائی جاتی ہیں

کہ بایاں ھاتھ بھی لاعلم رہے دائیں سےیہاں تو نیکیاں جگ کو دکھائی جاتی ہیں

اُمیدیں بس وہی بنتیں رضا اذیت ہیںبجز خدا جو کسی سے لگائی جاتی ہیں

— سجاد رضا