12 اشعار

کیا بیاں خدوخال کرتے ہیں

Kya bayaan khad-o-khaal karte hain

کیا بیاں خدوخال کرتے ہیںآئینے جو سوال کرتے ہیں

ھے کسی کی مجال، ماضی تھالوگ اب تو مجال کرتے ہیں

جان لیں گر کسی کی کمزوریلوگ جینا محال کرتے ہیں

بنا کانٹوں کے پھول کی چاہتآپ بھی تو کمال کرتے ہیں

میں مشقت سے تو نہیں ڈرتابس رویے نڈھال کرتے ہیں

زخم دیتے ہیں لوگ دانستہپھر یوں کاہے ملال کرتے ہیں

شوق ھے یار کو منانے کاآو مل کر دھمال کرتے ہیں

آپ پردیس بھلا کیا جانیںآپ کیا دن کو سال کرتے ہیں

جان لیں انتقام باقی ہےہم جو پرچم کو لال کرتے ہیں

وقت بیچا ضرور ہے ھم نےمطمئن ہیں حلال کرتے ہیں

جو ہوا اک خیال تھا پہلےیعنی سب کچھ خیال کرتے ہیں

آج ماں باپ سے ملا تھارضاخواب ماضی کو حال کرتے ہیں

— سجاد رضا