6 اشعار

ہمارے درمیاں اِک ان کہی دُہائی ہے

Hamare darmiyan ik an-kahi duhaai hai

ہمارے درمیاں اِک ان کہی دُہائی ہےکہ روزگار کی قیمت تیری جدائی ہے

ہمارے خواب فقط ساتھ ساتھ چلنا تھےحیات ہم نے ترے ہجر میں بیتائی ہے

جو شام اپنے ملن کی تھی یاد میں اُس کیترے بغیر سجن شام ِ غم منائی ہے

جتن سے نیند جو آئے تھی ہمیں پچھلے پہرترے خیال نے وہ نیند بھی اُڑائی ہے

تمہاری چُپ میں زمانوں کا درد پنہاں ہےسو اس نے روح میں شوریدگی مچائی ہے

ہمارے اختیار میں تو رضا بس یہ ہےدُعا کو ہاتھ، خدا تک یہی رسائی ہے

— سجاد رضا