15 اشعار

ہر قدم پر سراب دیکھے کیا

Har qadam par saraab dekhe kya

ہر قدم پر سراب دیکھے کیاوقت اتنا خراب دیکھے کیا

بس سوالوں کے بعدچلتے بنےتم ھمارا جواب دیکھے کیا

تم نے مارا جوان کڑیل تھااُس کی آنکھوں کے خواب دیکھے کیا؟

جھوٹ بچوں کو پڑھایا برسوںتم کبھی بھی نصاب دیکھے کیا

دین دنیا تھی زندگی اس میںگھر پہ رکھی کتاب دیکھے کیا

کاٹا پردیس بھی کبھی تم نےفرقتوں کےعتاب دیکھے کیا

پا برہنہ پھٹے ہوئے کپڑےتم نے جلتے گلاب دیکھے کیا

حکمراں قاضی و سپاہ سالارکوئی عزت مآب دیکھے کیا

کہہ کہ تکبیر شہ رگیں کاٹیںتم نے ایسے ثواب دیکھے کیا

جب لگا ہی چکا ہے بازی پھرعشق موجِ چناب دیکھے کیا

پوچھتے ہو کہ زندگی کیا ہےکوئی پھٹتا حباب دیکھے کیا

اُجالے بانٹ رہا ھے تنہااس طرح آفتاب دیکھے کیا

ھم پہ دیوانگی کے فتوے ہیںتم اُسے بے حجاب دیکھے کیا

اِن جوانوں پہ تہمتیں کاہےاپنا عہد شباب دیکھے کیا

راہ میں چھوڑنے والے کو رضاپھر کبھی ھم رکاب دیکھے کیا

— سجاد رضا