11 اشعار

یادیں بیٹھیں تیری بھلانے کچھ

Yaadein baithin teri bhulane kuch

یادیں بیٹھیں تیری بھلانے کچھھمیں لگ جائیں گے زمانے کچھ

چار کیا سب نثار کر دیتےدل میں ہوتے جو اور خانے کچھ

جب کمیں گاہ کی طرف دیکھازیادہ اپنے ہی تھے بیگانے کچھ

خالی پن سا ھےساتھ برسوں سےیار مل پائے نہ پرانے کچھ

ہر کسی در پہ تو نہیں جُھکتےخاص ہوتے ہیں آستانے کچھ

مصلحت باپ کی بھی سمجھو گےجب بھی رشتے پڑے نبھانے کچھ

آگئی یاد بھی اُسے میریہوش آنے لگے ٹھکانے کچھ

منتظر میری نیند کے برسوںخواب بیٹھے رہے سرہانے کچھ

ہجر میں اور کچھ ہوا نہ ہواذات میں بڑھ گئے ویرانے کچھ

ہار جانا تو تھا قبول مگرہم اصولوں پہ نہیں مانے کچھ

مول ملتے نہیں کہیں سے رضاایسے دفنا دیے خزانے کچھ

— سجاد رضا