5 اشعار

آہٹ جو سنائی دی ہے ہجر کی شب کی ہے

Aahat jo sunai di hai hijr ki shab ki hai

آہٹ جو سنائی دی ہے ہجر کی شب کی ہےیہ رائے اکیلی میری نہیں ہے سب کی ہے

سنسان سڑک سناٹے اور لمبے سائےیہ ساری فضا اے دل تیرے مطلب کی ہے

تری دید سے آنکھیں جی بھر کے سیراب ہوئیںکس روز ہوا تھا ایسا بات یہ کب کی ہے

تجھے بھول گیا کبھی یاد نہیں کرتا تجھ کوجو بات بہت پہلے کرنی تھی اب کی ہے

مرے سورج آ! مرے جسم پہ اپنا سایہ کربڑی تیز ہوا ہے سردی آج غضب کی ہے

— شہریار