تعارف
نوشی گیلانی (اصل نام: نشاط گیلانی) اردو ادب کی ایک ممتاز اور ہمہ جہت شاعرہ ہیں، جن کی پیدائش 14 مارچ 1964ء کو بہاولپور، پنجاب میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا؛ والد ڈاکٹر مسعود گیلانی نے فکری تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ نوشی گیلانی نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ایم۔اے کی ڈگری (اقبالیات/اردو/فارسی) مکمل کی، بعد ازاں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے وابستہ رہیں۔ کم عمری ہی سے شاعری کا آغاز کیا اور تخلص “نوشی” اختیار کیا، جس کے ساتھ انہوں نے اردو شاعری میں ایک منفرد، پُرخلوص اور باوقار شناخت قائم کی۔نوشی گیلانی کا ادبی سفر فکری گہرائی اور جذباتی صداقت کا آئینہ دار ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں محبتیں جب شمار کرنا، اُداس ہونے کے دن نہیں، پہلا لفظ محبت لکھا، آخری خواہش اور ہوا چپکے سے کہتی ہے شامل ہیں، جنہوں نے قارئین میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ ان کی شاعری میں عشق و محبت، جدائی، زندگی کے تلخ و شیریں تجربات، اور خصوصاً عورت کے باطنی احساسات نہایت سادہ مگر اثر انگیز زبان میں سامنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام خواص و عوام دونوں میں یکساں طور پر مقبول ہے اور نقاد اسے موضوعاتی تنوع، جذباتی شدت اور فنی سلیقے کی مثال قرار دیتے ہیں۔ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ نوشی گیلانی نے اردو ادب کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ 2008ء میں ان کی شاعری کے انگریزی تراجم سامنے آئے اور وہ عالمی شعری سرگرمیوں کا حصہ بنیں، جبکہ پاکستان سمیت امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں مشاعروں میں شرکت کرتی رہیں۔ 2009ء میں انہوں نے سڈنی میں “اردو اکیڈمی آف آسٹریلیا” کی بنیاد رکھی، جس کے ذریعے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے مستقل ادبی محافل اور مشاعرے منعقد کیے جاتے ہیں۔ آج وہ اپنے شوہر، شاعر سعید خان، کے ساتھ آسٹریلیا میں مقیم ہیں اور اردو ادب میں خواتین کی مضبوط، باوقار اور مؤثر آواز کے طور پر ایک روشن مثال سمجھی جاتی ہیں۔
منتخب اشعار
دل کا کیا ہے دل نے کتنے منظر دیکھے لیکن
آنکھیں پاگل ہو جاتی ہیں ایک خیال سے پہلے
سلام رہبر آزادی حیات سلام
سلام شاہ شہیدان شش جہات سلام
کلام
- 01 دل کا کیا ہے دل نے کتنے منظر دیکھے لیکن Dil ka kya hai dil ne kitne manzar dekhe lekin آواز میں دستیاب
- 02 سلام رہبر آزادی حیات سلام Salam Rehber-e-Azadi-e-Hayat Salam آواز میں دستیاب
- 03 مجھ کو رسوا سر محفل تو نہ کروایا کرے Mujh ko ruswa sar-e-mehfil toh na karwaya kare آواز میں دستیاب
- 04 محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا Mohabbatain jab shumar karna toh saazishein bhi shumar karna آواز میں دستیاب
- 05 اداس شام کی ایک نظم Udaas shaam ki ek nazm آواز میں دستیاب
- 06 ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے Har zarra-e-ummeed se khushboo nikal aaye آواز میں دستیاب