11 اشعار

پھر سفر بے سمت بے منزل ہوا

Phir safar be-simt be-manzil hua

برف بے موسم گریچٹان سے میدان تک

بے درختوں کی زمیںبے اون بھیڑوں کے لیے

زندہ رہنا اور مرنا دونوں مشکل ہو گئےآنکھ بے منظر خلا کو

تکتے تکتے تھک گئیوقت کی رفتار کو

بتلانے والی سوئیاںہندسوں کی بے صلہ بے کار گردش کرتے کرتے رک گئیں

آڑے ترچھے اونچے نیچے راستےبرف کی موٹی تہوں میں چھپ گئے

پھر سفر بے سمت بے منزل ہوابرف کے اجلے بدن کی

منحنی نیلی رگوں میںکون سورج بن کے دوڑے

کس طرح یہ برف پگھلےآگ بہ شعلہ ہوئی

پھر سفر بے سمت بے منزل ہوابے اون بھیڑوں کے لیے

زندہ رہنا اور مرنا دونوں مشکل ہو گئے

— شہریار