10 اشعار

امید و بیم

Umeed-o-Baim

میں نے اکثر انہیں آنکھوں کے دریچے سے تجھےجھانکتے دیکھا ہے

جب لغزش انفاس بڑھیتند و پر شور صداؤں کا ہجوم

نور افروز خلاؤں سے ہم آغوش ہوامیں نے اکثر انہیں آنکھوں کے دریچے میں تجھے

ڈوبتے دیکھا ہےجب تلخئی احساس گھٹی

خامشی رخت سفر باندھ چکیتند و پر شور صداؤں کا ہجوم

ظلمت انگیز زمیں دوز گپھاؤں کا جگرچیر کے

اونگھتی تنہائی میں تحلیل ہوامیں نے تو نے انہیں آنکھوں کے دریچے کے قریب

روشنی روتے ہوئے نور کے میناروں کواشک بنتے ہوئے گرتے ہوئے دیکھا ہے

تو کیوںآندھیاں چلنے لگیں

خوف سے کانپ اٹھیں باز دریچوں کی لویں؟

— شہریار