7 اشعار

لا زوال سکوت

La Zawaal Sukoot

مہیب لمبے گھنے پیڑوں کی ہری شاخیںکبھی کبھی کوئی اشلوک گنگناتی تھیں

کبھی کبھی کسی پتے کا دل دھڑکتا تھاکبھی کبھی کوئی کونپل درود پڑھتی تھی

کبھی کبھی کوئی جگنو الکھ جگاتا تھاکبھی کبھی کوئی طائر ہوا سے لڑتا تھا

کبھی کبھی کوئی پرچھائیں چیخ پڑتی تھیاور اس کے بعد مری آنکھ کھل گئی میں نے

سرہانے رکھے ہوئے تازہ روز نامے کیہر ایک سطر بڑے غور سے پڑھی لیکن

خبر کہیں بھی کسی ایسے حادثے کی نہ تھیاور اس کے بعد میں دیوانہ وار ہنسنے لگا

اور اس کے بعد ہر اک سمت لا زوال سکوتاور اس کے بعد ہر اک سمت لا زوال سکوت

— شہریار