5 اشعار

بہتے دریاؤں میں پانی کی کمی دیکھنا ہے

Bahte daryaaon mein paani ki kami dekhna hai

بہتے دریاؤں میں پانی کی کمی دیکھنا ہےعمر بھر مجھ کو یہی تشنہ لبی دیکھنا ہے

رنج دل کو ہے کہ جی بھر کے نہیں دیکھا تجھےخوف اس کا تھا جو آئندہ کبھی دیکھنا ہے

شب کی تاریکی در خواب ہمیشہ کو بندچند دن بعد تو دنیا میں یہی دیکھنا ہے

خون کے قطروں نے طوفان اٹھا رکھا ہےاب رگ و پے میں مجھے برف جمی دیکھنا ہے

کس طرح رینگنے لگتے ہیں یہ چلتے ہوئے لوگیارو کل دیکھو گے یا آج ابھی دیکھنا ہے

— شہریار