5 اشعار

دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھے

Dil mein rakhta hai na palkon pe bithata hai mujhe

دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھےپھر بھی اک شخص میں کیا کیا نظر آتا ہے مجھے

رات کا وقت ہے سورج ہے مرا راہنمادیر سے دور سے یہ کون بلاتا ہے مجھے

میری ان آنکھوں کو خوابوں سے پشیمانی ہےنیند کے نام سے جو ہول سا آتا ہے مجھے

تیرا منکر نہیں اے وقت مگر دیکھنا ہےبچھڑے لوگوں سے کہاں کیسے ملاتا ہے مجھے

قصۂ درد میں یہ بات کہاں سے آئیمیں بہت ہنستا ہوں جب کوئی سناتا ہے مجھے

— شہریار