5 اشعار

جاگتا ہوں میں ایک اکیلا دنیا سوتی ہے

Jaagta hoon main ek akela duniya soti hai

جاگتا ہوں میں ایک اکیلا دنیا سوتی ہےکتنی وحشت ہجر کی لمبی رات میں ہوتی ہے

یادوں کے سیلاب میں جس دم میں گھر جاتا ہوںدل دیوار ادھر جانے کی خواہش ہوتی ہے

خواب دیکھنے کی حسرت میں تنہائی میریآنکھوں کی بنجر دھرتی میں نیندیں بوتی ہے

خود کو تسلی دینا کتنا مشکل ہوتا ہےکوئی قیمتی چیز اچانک جب بھی کھوتی ہے

عمر سفر جاری ہے بس یہ کھیل دیکھنے کوروح بدن کا بوجھ کہاں تک کب تک ڈھوتی ہے

— شہریار