5 اشعار

کاروبار شوق میں بس فائدہ اتنا ہوا

Karobar-e-shauq mein bas faayda itna hua

کاروبار شوق میں بس فائدہ اتنا ہواتجھ سے ملنا تھا کہ میں کچھ اور بھی تنہا ہوا

کوئی پلکوں سے اترتی رات کو روکے ذراشام کی دہلیز پر اک سایہ ہے سہما ہوا

منجمد ہوتی چلی جاتی ہیں آوازیں تمامایک سناٹا ہے سارے شہر میں پھیلا ہوا

آسمانوں پر لکھی تحریر دھندلی ہو گئیاب کوئی مصرف نہیں آنکھوں کا یہ اچھا ہوا

اس ہتھیلی میں بہت سی دستکیں روپوش ہیںاس گلی کے موڑ پر اک گھر تھا کل تک کیا ہوا

— شہریار