3 اشعار

ایک خوش خبری

Ek Khush Khabri

ہنسو کہ سرخ و گرم خون پھر سفید ہو گیاہنسو کہ نقطۂ امید پھر خلا کے دائرے میں آج قید ہو گیا

ہنسو کہ دشت آرزو میں تھک تھکا کے سب بگولے سو گئےہنسو کہ شہر زندگی کا بے فصیل ہو گیا

ہنسو کہ سایۂ صلیب پھر طویل ہو گیا

— شہریار