ریکارڈ شدہ ایکس سپیس
4 نومبر 2026
آج پر نور گذر گاہ زماں ہے کہ نہیں اختر انصاری اکبر آبادی
مہمان شاعر: اختر انصاری اکبر آبادی
7
سپیکرز
326
سامعین
سپیکرز
اختر انصاری اکبر آبادی — مہمان شاعر
اختر انصاری اکبر آبادی اردو کے شاعر، افسانہ نگار، نقاد اور صحافی تھے۔ وہ ۱۵ اگست ۱۹۲۰ء کو آگرہ (قدیم اکبر آباد) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد اختر ایوب تھا۔ انہوں نے ابتدائی عمر ہی سے شعر و ادب سے وابستگی اختیار کرلی اور شاعری کے ساتھ افسانہ نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ان کی ابتدائی تخلیقات دہلی اور لکھنؤ کے معروف ادبی رسائل میں شائع ہوئیں، جن سے ان کی ادبی شناخت مستحکم ہوئی۔ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان ہجرت کی اور بالآخر حیدرآباد، سندھ کو اپنا مستقل مرکزِ قیام و ادبی سرگرمی بنایا۔
اختر انصاری اکبر آبادی کی شاعری میں رومانوی احساسات، انسانی جذبات اور عصری شعور کی جھلک نمایاں ہے۔ وہ بالخصوص تضمین نگاری اور خمسہ نگاری میں مہارت رکھتے تھے، جس کا اعتراف شان الحق حقی، نوح ناروی اور جوش ملیسانی جیسے اہلِ ادب نے بھی کیا۔ ان کے شعری مجموعوں میں کیف و رنگ، جامِ نو، دلِ رسوا، غمِ فردا اور نئی رہگزر قابلِ ذکر ہیں، جب کہ افسانوی اور تنقیدی تصانیف میں ہوس کار، زندگی کے رخ، نظریات اور...
اختر انصاری اکبر آبادی کی شاعری میں رومانوی احساسات، انسانی جذبات اور عصری شعور کی جھلک نمایاں ہے۔ وہ بالخصوص تضمین نگاری اور خمسہ نگاری میں مہارت رکھتے تھے، جس کا اعتراف شان الحق حقی، نوح ناروی اور جوش ملیسانی جیسے اہلِ ادب نے بھی کیا۔ ان کے شعری مجموعوں میں کیف و رنگ، جامِ نو، دلِ رسوا، غمِ فردا اور نئی رہگزر قابلِ ذکر ہیں، جب کہ افسانوی اور تنقیدی تصانیف میں ہوس کار، زندگی کے رخ، نظریات اور...