نہ زلف شام نہ روئے سحر کو دیکھتے ہیں
کلام: اختر انصاری اکبر آبادی
نہ زلف شام نہ روئے سحر کو دیکھتے ہیںہم اہل شوق تمہاری نظر کو دیکھتے ہیں
ہجوم رحمت پروردگار کیا کہیےمقام عظمت دامان تر کو دیکھتے ہیں
آج پر نور گذر گاہ زماں ہے کہ نہیں اختر انصاری اکبر آبادی
مہمان شاعر: اختر انصاری اکبر آبادی
نہ زلف شام نہ روئے سحر کو دیکھتے ہیںہم اہل شوق تمہاری نظر کو دیکھتے ہیں
ہجوم رحمت پروردگار کیا کہیےمقام عظمت دامان تر کو دیکھتے ہیں
نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانابہت دشوار ہے چڑھتے ہوئے طوفاں کا تھم جانا
خبر کیا تھی ستم کی پردہ داری یوں بھی ہوتی ہےبہت نادم ہوں جب سے مقصد جوش کرم جانا