سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کو
کلام: اختر انصاری اکبر آبادی
سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کوہٹاؤ راہ محبت سے رہنماؤں کو
بنا رہا ہوں حسیں اور مہ لقاؤں کوسجا رہا ہوں میں آفاق کی فضاؤں کو
آج پر نور گذر گاہ زماں ہے کہ نہیں اختر انصاری اکبر آبادی
مہمان شاعر: اختر انصاری اکبر آبادی
سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کوہٹاؤ راہ محبت سے رہنماؤں کو
بنا رہا ہوں حسیں اور مہ لقاؤں کوسجا رہا ہوں میں آفاق کی فضاؤں کو