شراب آئے تو کیف و اثر کی بات کرو
کلام: اختر انصاری اکبر آبادی
شراب آئے تو کیف و اثر کی بات کروپیو تو بزم میں فکر و نظر کی بات کرو
فسانۂ خم گیسو میں کیف کچھ بھی نہیںنظام عالم زیر و زبر کی بات کرو
آج پر نور گذر گاہ زماں ہے کہ نہیں اختر انصاری اکبر آبادی
مہمان شاعر: اختر انصاری اکبر آبادی
شراب آئے تو کیف و اثر کی بات کروپیو تو بزم میں فکر و نظر کی بات کرو
فسانۂ خم گیسو میں کیف کچھ بھی نہیںنظام عالم زیر و زبر کی بات کرو