ریکارڈ شدہ ایکس سپیس 29 جنوری 2026

میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی

مہمان شاعر: میراجی

17
سپیکرز
280
سامعین

سپیکرز

کسی سپیکر کو منتخب کریں — ان کا پیش کردہ کلام نیچے

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

ایک تضاد

کلام: میراجی

کوہ سے زریں اذیت کے گزر جانے کے بعدسرخ نغمہ شام کا اک پل میں مر جانے کے بعد

ہاں پس از فریاد و قلب دہر کی لرزش کے بعددن کی تم آلود زرد و لالہ گوں کاوش کے بعد

مکمل کلام پڑھیں ‹

جنگ کا انجام

کلام: میراجی

بہو کہے یہ بڑھیا میری جان کی لاگو بن کے رہے گیساس کہے گز بھر کی زباں ہے اپنی منہ آئی ہی کہے گی

بہو کہے جب دیکھو جب ہی خواہی نخواہی بات بڑھاناساس پکارے اے مرے اللہ توبہ بھلی اب تو ہی بچانا

مکمل کلام پڑھیں ‹