ایک تضاد
کلام: میراجی
کوہ سے زریں اذیت کے گزر جانے کے بعدسرخ نغمہ شام کا اک پل میں مر جانے کے بعد
ہاں پس از فریاد و قلب دہر کی لرزش کے بعددن کی تم آلود زرد و لالہ گوں کاوش کے بعد
میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی
مہمان شاعر: میراجی
کوہ سے زریں اذیت کے گزر جانے کے بعدسرخ نغمہ شام کا اک پل میں مر جانے کے بعد
ہاں پس از فریاد و قلب دہر کی لرزش کے بعددن کی تم آلود زرد و لالہ گوں کاوش کے بعد
بہو کہے یہ بڑھیا میری جان کی لاگو بن کے رہے گیساس کہے گز بھر کی زباں ہے اپنی منہ آئی ہی کہے گی
بہو کہے جب دیکھو جب ہی خواہی نخواہی بات بڑھاناساس پکارے اے مرے اللہ توبہ بھلی اب تو ہی بچانا