شام کو راستے پر
کلام: میراجی
رات کے عکس تخیل سے ملاقات ہو جس کا مقصودکبھی دروازے سے آتا ہے کبھی کھڑکی سے
اور ہر بار نئے بھیس میں در آتا ہےاس کو اک شخص سمجھنا تو مناسب ہی نہیں
میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی
مہمان شاعر: میراجی
رات کے عکس تخیل سے ملاقات ہو جس کا مقصودکبھی دروازے سے آتا ہے کبھی کھڑکی سے
اور ہر بار نئے بھیس میں در آتا ہےاس کو اک شخص سمجھنا تو مناسب ہی نہیں
فضول ہےیہ گفتگو ہے
نگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیںچلو چلیں
دیدۂ اشک بار ہے اپنااور دل بے قرار ہے اپنا
رشک صحرا ہے گھر کی ویرانییہی رنگ بہار ہے اپنا
یہاں ان سلوٹوں پر ہاتھ رکھ دوںیہ لہریں ہیں بہی جاتی ہیں اور مجھ کو بہاتی ہیں
یہ موج بادہ ہیں ساغر کی خوابیدہ فضا دل میںاچانک جاگ اٹھتی ہے
دل محو جمال ہو گیا ہےیا صرف خیال ہو گیا ہے
اب اپنا یہ حال ہو گیا ہےجینا بھی محال ہو گیا ہے