11 اشعار

جنگ کا انجام

Jang Ka Anjaam

جنگ کا انجام

«جنگ کا انجام» میراجی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

بہو کہے یہ بڑھیا میری جان کی لاگو بن کے رہے گیساس کہے گز بھر کی زباں ہے اپنی منہ آئی ہی کہے گی

بہو کہے جب دیکھو جب ہی خواہی نخواہی بات بڑھاناساس پکارے اے مرے اللہ توبہ بھلی اب تو ہی بچانا

بہو کہے اپنا گھر کیسا یاں تو اپنے بھی ہیں پرائےساس کہے جل بھن کے اسے تو راج محل بھی راس نہ آئے

بہو کہے جس کے ہاتھوں ہے ڈوئی اسی کا سب کوئی ہےساس پکارے جاؤ جی جاؤ پاؤں کی جوتی سر پہ چڑھی ہے

بہو کہے مجھ جنم جلی کو کس کے پلے باندھ دیا ہےساس کہے اب کون بتائے آگے جو آیا ہے کس کا کیا ہے

بہو کہے یہ پوت کی دردی بس جو چلے تو بس ہی کھلا دےساس کہے وہ بات ہے اپنی گالی سنے اور پھر بھی دعا دے

بہو کہے اب سر پہ پڑی ہے جیسے بھی ہو گزر جائے گیساس کہے جب دیکھو اس کو دودھ ملیدہ ہی کھائے گی

بہو کہے جی جو آتا تھا ساس کے سامنے بول رہی تھیساس بھی لیکن ترکی بہ ترکی بھید بہو کے کھول رہی تھی

ننھے نے یہ موقع تاڑا جھٹ باورچی خانے پہنچادودھ پہ آئی تھی جو ملائی چپکے سے اس کو کھانے پہنچا

کھا کے جو لوٹا راہ میں اس نے کالی بلی جاتے پائیدیکھ کے اس کو ڈر کے مارے زور کی اس نے چیخ لگائی

ایک ہی چیخ نے اس کی پل میں ساس بہو کا جھگڑا چکایادوڑی بہو مرے لال ہوا کیا ساس پکاری ہائے خدایا

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں