ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہے
کلام: میراجی
ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہےمیراجیؔ دانا تو نہیں ہے عاشق ہے سودائی ہے
صبح سویرے کون سی صورت پھلواری میں آئی ہےڈالی ڈالی جھوم اٹھی ہے کلی کلی لہرائی ہے
میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی
مہمان شاعر: میراجی
ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہےمیراجیؔ دانا تو نہیں ہے عاشق ہے سودائی ہے
صبح سویرے کون سی صورت پھلواری میں آئی ہےڈالی ڈالی جھوم اٹھی ہے کلی کلی لہرائی ہے
تمہیں معلوم ہے تیمور کی فوجیں جس وقتاپنے دشمن پہ بڑھا کرتی تھیں
عورتیں پیچھے رہا کرتی تھیںاور جو عالم تھے فاضل تھے ان انسانوں کا جرگہ سب کے
میں ڈرتا ہوں مسرت سےمیں ڈرتا ہوں مسرت سے
کہیں یہ میری ہستی کوپریشاں، کائناتی نغمہ ء مبہم میں الجھا دے