جیسے ہوتی آئی ہے ویسے بسر ہو جائے گی
کلام: میراجی
جیسے ہوتی آئی ہے ویسے بسر ہو جائے گیزندگی اب مختصر سے مختصر ہو جائے گی
گیسوئے عکس شب فرقت پریشاں اب بھی ہےہم بھی تو دیکھیں کہ یوں کیوں کر سحر ہو جائے گی
میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی
مہمان شاعر: میراجی
جیسے ہوتی آئی ہے ویسے بسر ہو جائے گیزندگی اب مختصر سے مختصر ہو جائے گی
گیسوئے عکس شب فرقت پریشاں اب بھی ہےہم بھی تو دیکھیں کہ یوں کیوں کر سحر ہو جائے گی
یہ جی چاہتا ہے کہ تم ایک ننھی سی لڑکی ہو اور ہم تمہیں گود میں لے کے اپنی بٹھا لیںیوں ہی چیخو چلاؤ ہنس دو یوں ہی ہاتھ اٹھاؤ ہوا میں ہلاؤ ہلا کر گرا دو
کبھی ایسے جیسے کوئی بات کہنے لگی ہوکبھی ایسے جیسے نہ بولیں گے تم سے