ریکارڈ شدہ ایکس سپیس
1 نومبر 2026
ستم ہو یا کرم دونوں کا ہم پر شکر واجب ہے عرش ملسیانی
مہمان شاعر: عرش ملسیانی
17
سپیکرز
312
سامعین
سپیکرز
عرش ملسیانی — مہمان شاعر
عرش ملسیانی اردو کے معروف شاعر، ادیب، محقق، مترجم اور مدیر تھے۔ ان کا اصل نام پنڈت بالمکند تھا اور وہ 20 ستمبر 1908ء کو پنجاب کے ضلع جالندھر کے قصبے ملسیان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جوش ملسیانی داغ دہلوی کے شاگرد اور اپنے عہد کے ممتاز شاعر تھے، چنانچہ عرش ملسیانی کو گھر ہی سے شعر و ادب کا ذوق ورثے میں ملا۔ انہوں نے عملی زندگی کا آغاز محکمۂ آب پاشی سے کیا اور بعدازاں لدھیانہ کے گورنمنٹ انڈسٹریل اسکول میں تقریباً پندرہ برس تدریسی خدمات انجام دیں۔ ان کی شخصیت میں علمی ذوق، ادبی تربیت اور وسیع مطالعے کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔
عرش ملسیانی کی ادبی زندگی کا ایک اہم حوالہ رسالہ آج کل کی ادارت ہے، جہاں انہوں نے جوش ملیح آبادی کے ساتھ بطور نائب مدیر کام کیا اور بعدازاں رسالے کی ادارت کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔ شاعری میں ان کا رجحان کلاسیکی غزل کی روایت کی طرف تھا، جب کہ ان کے کلام میں سادگی، شستگی، برجستگی اور انسانی جذبات کی ترجمانی نمایاں ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ہفت رنگ اور چنگ و آہنگ ق...
عرش ملسیانی کی ادبی زندگی کا ایک اہم حوالہ رسالہ آج کل کی ادارت ہے، جہاں انہوں نے جوش ملیح آبادی کے ساتھ بطور نائب مدیر کام کیا اور بعدازاں رسالے کی ادارت کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔ شاعری میں ان کا رجحان کلاسیکی غزل کی روایت کی طرف تھا، جب کہ ان کے کلام میں سادگی، شستگی، برجستگی اور انسانی جذبات کی ترجمانی نمایاں ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ہفت رنگ اور چنگ و آہنگ ق...