وہ حاضر ہو کہ غائب ہو نہاں یوں بھی ہے اور یوں بھی
کلام: عرش ملسیانی
وہ حاضر ہو کہ غائب ہو نہاں یوں بھی ہے اور یوں بھیسراسر راز راز کن فکاں یوں بھی ہے اور یوں بھی
تحیر ہے حضوری میں تو بیتابی ہے دوری میںمصیبت میں یہ جان ناتواں یوں بھی ہے اور یوں بھی