کسی نغمے میں ہے وہ اور نہ کسی ساز میں ہے
کلام: عرش ملسیانی
کسی نغمے میں ہے وہ اور نہ کسی ساز میں ہےرس بھری نرم سی لے جو تری آواز میں ہے
گوش مشتاق کی خود ساختہ تفریق ہے یہورنہ جو ساز ہے باہر ہے وہی ساز میں ہے
ستم ہو یا کرم دونوں کا ہم پر شکر واجب ہے عرش ملسیانی
مہمان شاعر: عرش ملسیانی
کسی نغمے میں ہے وہ اور نہ کسی ساز میں ہےرس بھری نرم سی لے جو تری آواز میں ہے
گوش مشتاق کی خود ساختہ تفریق ہے یہورنہ جو ساز ہے باہر ہے وہی ساز میں ہے