حسن پر دسترس کی بات نہ کر
کلام: عرش ملسیانی
حسن پر دسترس کی بات نہ کریہ ہوس ہے ہوس کی بات نہ کر
پوچھ اگلے برس میں کیا ہوگامجھ سے پچھلے برس کی بات نہ کر
ستم ہو یا کرم دونوں کا ہم پر شکر واجب ہے عرش ملسیانی
مہمان شاعر: عرش ملسیانی
حسن پر دسترس کی بات نہ کریہ ہوس ہے ہوس کی بات نہ کر
پوچھ اگلے برس میں کیا ہوگامجھ سے پچھلے برس کی بات نہ کر