جزو جاں رہتا ہے دائم جو غم جاں ہو کر
کلام: عرش ملسیانی
جزو جاں رہتا ہے دائم جو غم جاں ہو کرعقل تکتی ہے اسے ششدر و حیراں ہو کر
سوچتا ہوں کہ وہی منزل ادراک نہ ہوذہن بیٹھا ہے جہاں سر بہ گریباں ہو کر
ستم ہو یا کرم دونوں کا ہم پر شکر واجب ہے عرش ملسیانی
مہمان شاعر: عرش ملسیانی
جزو جاں رہتا ہے دائم جو غم جاں ہو کرعقل تکتی ہے اسے ششدر و حیراں ہو کر
سوچتا ہوں کہ وہی منزل ادراک نہ ہوذہن بیٹھا ہے جہاں سر بہ گریباں ہو کر