محبت وہ مرض ہے جس کا چارہ ہو نہیں سکتا
کلام: عرش ملسیانی
محبت وہ مرض ہے جس کا چارہ ہو نہیں سکتاجگر کا ہو کہ دل کا زخم اچھا ہو نہیں سکتا
وہ نالہ کوئی نالہ ہے جو کم ہو موج طوفاں سےوہ آنسو کوئی آنسو ہے جو دریا ہو نہیں سکتا
ستم ہو یا کرم دونوں کا ہم پر شکر واجب ہے عرش ملسیانی
مہمان شاعر: عرش ملسیانی
محبت وہ مرض ہے جس کا چارہ ہو نہیں سکتاجگر کا ہو کہ دل کا زخم اچھا ہو نہیں سکتا
وہ نالہ کوئی نالہ ہے جو کم ہو موج طوفاں سےوہ آنسو کوئی آنسو ہے جو دریا ہو نہیں سکتا