مقرر

فائیٹر

@AQEeLpathan92

24
پیش کردہ کلام
37
محفلوں میں شرکت
فائیٹر کی آواز میں

ازل سے ایک ہجر کا اسیر ہے،اخیر ہے

کلام: نا معلوم · محفل: تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں · 2025-12-30

«ازل سے ایک ہجر کا اسیر ہے،اخیر ہے» نا معلوم کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

ازل سے ایک ہجر کا اسیر ہے،اخیر ہےیہ دل بھی کیا لکیر کا فقیر ہے،اخیر ہے

ہمارے ساتھ حادثہ بھی دفعتا" نہیں ہواجو ہاتھ میں نصیب کی لکیر ہے،اخیر ہے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے Gham mujhe hasrat mujhe wahshat mujhe sauda mujhe سیماب اکبر آبادی آواز میں دستیاب
  2. 02 جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں Jo umr teri talab mein ganwaye jate hain سیماب اکبر آبادی آواز میں دستیاب
  3. 03 یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئے Ye hain jo aastin mein khanjar kahan se aaye محسن زیدی آواز میں دستیاب
  4. 04 قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ Qatl chhupte the kabhi sang ki deewar ke beech محسن نقوی آواز میں دستیاب
  5. 05 چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے Chashm-e-qaatil hamein kyunkar na bhala yaad rahe شیخ ابراہیم ذوق آواز میں دستیاب
  6. 06 بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے Bimar-e-mohabbat ki dawa hai ke nahin hai کیف بھوپالی آواز میں دستیاب
  7. 07 سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میں Sochta hoon raat jo sooraj tha daayen haath mein کیف احمد صدیقی آواز میں دستیاب
  8. 08 وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھا Woh barg-e-khushk tha aur daman-e-bahar mein tha محسن بھوپالی آواز میں دستیاب