دل کی شیرینی باتوں میں ہوتی تھی
کلام: عشرت آفریں
دل کی شیرینی باتوں میں ہوتی تھیپھر تاثیر مناجاتوں میں ہوتی تھی
کیا دن تھے جب کنجی خوشی خزانے کیاپنے دھول بھرے ہاتھوں میں ہوتی تھی
تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں
مہمان شاعر: عشرت آفریں
دل کی شیرینی باتوں میں ہوتی تھیپھر تاثیر مناجاتوں میں ہوتی تھی
کیا دن تھے جب کنجی خوشی خزانے کیاپنے دھول بھرے ہاتھوں میں ہوتی تھی
اپنی چادر کو پرچم کر سکتی ہےعورت اک تاریخ رقم کر سکتی ہے
ایوانوں سے نکل سکے تو یہ آوازاک عالم درہم برہم کر سکتی ہے
ازل سے ایک ہجر کا اسیر ہے،اخیر ہےیہ دل بھی کیا لکیر کا فقیر ہے،اخیر ہے
ہمارے ساتھ حادثہ بھی دفعتا" نہیں ہواجو ہاتھ میں نصیب کی لکیر ہے،اخیر ہے