9 اشعار

ازل سے ایک ہجر کا اسیر ہے،اخیر ہے

Azal se ek hijr ka aseer hai, akheer hai

ازل سے ایک ہجر کا اسیر ہے،اخیر ہے

«ازل سے ایک ہجر کا اسیر ہے،اخیر ہے» نا معلوم کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

ازل سے ایک ہجر کا اسیر ہے،اخیر ہےیہ دل بھی کیا لکیر کا فقیر ہے،اخیر ہے

ہمارے ساتھ حادثہ بھی دفعتا" نہیں ہواجو ہاتھ میں نصیب کی لکیر ہے،اخیر ہے

ہمارے قتل پر ہمیں ہی دوش دے رہے ہیں آپجناب من جو آپ کا ضمیر ہے،اخیر ہے

اسی طرف بھڑک رہی ہے آگ زور شور سےاسی طرف ہی روشنی کثیر ہے، اخیر ہے

اسی لیے اسیر ہوں میں سر زمینِ جھنگ کاسنا ہے میں نے جھنگ کی جو ہیر ہے،اخیر ہے

ہرا رہے گا عمر بھر جو زخم آپ سے ملاجناب کی کمان میں جو تیر ہے،اخیر ہے

بہار نے کیا بھی تو خزاؤں کا بھلا کیایہ زندگی بھی موت کی سفیر ہے،اخیر ہے

چھڑی ہے میر کی غزل سجی ہے بزمِ مے کشاںبنا ہوا ہے جو سماں اخیر ہے،اخیر ہے

قریب ہے دلِ حزیں پہ شعر کا نزول ہوکہ رو برو جو حسنِ دلپذیر ہے،اخیر ہے

— نا معلوم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں