انتظار حسین کی آواز میں
دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئے
کلام: مظفر وارثی · محفل: شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی) · 2025-12-18
«دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئے» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔
دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئےظرف مردہ ہو تو سچائی کہاں سے آئے
پیار تعمیر ہو جب بغض کی بنیادوں پرملتی نظروں میں شناسائی کہاں سے آئے